58a14d77dfd4fe47c12b018c3325c526

 جنت کی تمام نعمتیں، پھل اور میوے جات حضرت آدم کے تصرف میں دے دیئے گئے تھے۔ انہیں سوائے شجر ممنوعہ کے، تمام زرعی پیداوار کے استعمال کا اذن عام تھا۔ پھر جب  با وجوہ ان کا ورود مسعود باغ عدن میں ہوا تو وہاں بھی بقائے زندگی کے لیے اشیائے خورو نوش موجود تھیں۔

پہلا انسان اس لحاظ سے پہلا کسان بھی کہلایا جا سکتا ہے۔ یہ بھی و ثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ اس روئے زمین کا آخری انسان بھی آخری دم تک کسان ہی کا پیشہ اختیار کیے ہوئے ہو گا۔

جب دنیا کی پہلی آبادی وجود میں آئی تو صرف زراعت اور گلہ بانی ہی انسان کا پیشہ تھا۔ اپنی محنت اور لگن سے کسان نے اس کرۂ ارض کو انواع و اقسام کی فصلوں، باغوں، پھلوں اور پھولوں سے آراستہ کر کے رشک فردوس بنا دیا اور خوراک کے معاملے میں خود کفالت کی منزل کو پالیا۔ نہ صرف اپنے لیے، بلکہ اپنے ان بے شمار مہمانوں کے لیے بھی جن میں چرند، پرند اور ہر قسم کے حشرات الارض شامل ہیں۔

کسان کی ان تھک محنت سے جب ضرورت سے زیادہ اناج پیدا ہوناشروع ہوا اور اسے ذخیرہ کرنے کی نوبت آئی تو ایسی بستیاں وجود میں آئیں جو آج قصبات اور شہروں کی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ پھر رفتہ رفتہ دنیا واضح طبقوں میں بٹ گئی یعنی ایک دیہاتی اور دوسرا شہری۔ اس تقسیم کا عمل اس حد تک بڑھا کہ اب لوگ اپنے ملک کے صرف شہری کہلاتے ہیں، خواہ وہ ہماری طرح ۰۷فی صد دیہات میں بستے ہوں۔

وقت کے ساتھ ساتھ کسان کے پیدا کردہ اناج اور دیگر زرعی پیداوار کو ذخیرہ کرنے والے لوگ تعلیمی، ذہنی، معاشی اور معاشرتی طور پر ترقی یافتہ ہو گئے اور خود کو مہذب اور معزز شہری سمجھنے لگے، لیکن خود کسان ہر صلے اور ستائش سے بے نیاز خوراک پیدا کرنے کے مقدس عمل میں مصروف رہا تاکہ اس کے ابتائے وطن بھوک اور فاقوں سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ یہ اس ہمہ وہ جاہل، پس ماندہ اور غیرمہذب، کیا کچھ نہ کہلا یا۔

آج جب کہ تمام دنیا متمدن اور ترقی یافتہ ہو چکی ہے، یہی کسان اناج پید اکرنے کے فریضے کو پورے انہماکسے سر انجام دے کر نسل انسانی کی بقاء کی ضمانت فراہم کر رہا ہے۔

ہمارا کسان نا مساعد حالات، جھلسانے والی گرمی، برف باری، بارش، طوفان اور دیگر ارضی و سماوی آفات کی پروا کئے بغیر دن رات محنت اور جاں فشانی سے ہمارے لیے خوراک پیدا کرنے کا واحد وسیلہ ہے۔ اگر وہ ناکام ہو جائے تو نسل انسانی تباہ ہو جائے۔ ہزار ہا سال کی بنی سنوری تہذیب اور انسانی اقدار وقت کے ایسے اندھے کو چے میں داخل ہو جائیں جہاں نہ کوئی روشنی کی کرن نظر آئے اور نہ نکلنے کا کوئی راستہ۔

سبز انقلاب دنیا کا سب سے بڑا اور موثر انقلاب ہے اور کسان اس کا بانی کہلانے کا مستحق ہے۔ ملکی معیشت اسی کے دم سے قائم ہے۔ یہ اگر خوراک پیدا نہ کر سکے تو ہم غیر ممالک کے نہ صرف دست نگر ہو جائیں، بلکہ نگر نگر کاسہ گدائی لیے پھریں۔ دنیا کا ہر ذی روح خوراک کے معاملے میں کسان کا محتاج ہے، لیکن اس کا کوئی اعتراف نہیں کرتا۔ اسی طرح خوراک کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرتا، لیکن افسوس ہے کہ خوراک پیدا کرنے والے کی اہمیت کا کوئی اقرار نہیں کرتا۔ اگر ہمارا با شعور طبقہ اپنے کسان کو غریب، نادار، بے علم اور جاہل رکھے گا تو ایک دن اسے اس کی بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ شہری آبادی کو چاہیے کہ وہ کسان سے اور اس کی ضروریات سے غیر متعلق نہ رہے۔ اس کی اہمیت کو پہچانے اور خوراک پیدا کرنے والوں کو نفرت اور حقارت کی نظر سے نہ دیکھے۔

ہمارا کسان بے حد محنتی اور جفاکش انسان ہے۔ وہ خون پسینہ ایک کر کے بلا ناغہ کھیتوں پر کام کرتا ہے۔ اس کے باوجود مفلوک الحال اور پس ماندہ ہے۔ اسے ایک طبقے نے شعوری طورپر پابہ زنجیر کر رکھا ہے۔ مشقت کے بوجھ تلے رہنے، لیکن ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے کسان کے جسم کی اپنی ریڑھ کی ہڈی ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔ دنیا  کا تن ڈھانپنے کا سامان کرنے والے کے اپنے بدن پر موزوں لباس بھی نہیں ہوتا۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ گرمی سردی ایک ہی قسم کا کپڑا کیوں پہننے پر مجبور ہے۔ اسے دوپہر کھانا کیوں نصیب نہیں ہوتا اور اس کی بیوی اکثر ننگے پاؤں کیوں ہوتی ہے؟ شہر میں چراغاں ہو، لیکن دیہات کی دنیا اندھیری رہتی ہے؟ ہمارے گاؤں ہمیشہ اجڑی ہوئی آسیب زدہ بستیاں کیوں نظر آتے ہیں؟ ؟ وہ تعلیم، بلکہ زندگی کی معمولی آسائشوں، یہاں تک کہ پینے کے صاف پانی تک، کیوں محروم ہے؟ انھیں جس زاویے دیکھیں وہ ایک جیسے کیوں نظر آتے ہیں؟وہ غربت اور نا انصافی کا شکار کیوں ہیں؟ ہماری  ستر فیصد آبادی ایسے ہی کسانوں پر مشتمل ہے۔ ہمیں ا س کے بارے میں اس انداز سے بھی غور کرنا چاہیے کہ اگر اتنی بڑی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہوگی تو پوری قوم ان پڑھ اور جاہل کہلائے جانے کی  مستحق ہو گی۔ اگر وہ غیر صحت مند ہو گی تو پوری قوم بیمار کہلائے گی۔ اگر وہ بھوک اور افلاس کا شکار ہو گی تو پورا ملک غریب، مفلس اور بھوکا کہلائےگا۔

کسان ایک سچا، کھرا اور سیدھا سادھا انسان ہے۔ اس پر کسی قسم کا ملمع نہیں ہوتا۔ جھوٹ، فریب اور ریاکاری سے کام لے تو پنپتا نہیں، بلکہ خود تباہ ہو جاتا ہے۔ بیج کم ڈالے تو فصل کم ہوتی ہے۔ بیل کا چارہ کم کر دے تو وہ ہل نہیں کھینچتا۔ سچائی جو کبھی اس کی مجبوری بھی اب اس کی فطرت بن چکی ہے۔

کسان ہمارے لیے خوراک کے علاوہ ایسی جڑی بوٹیاں بھی اگاتا ہے جن سے بیماریوں سے نجات ملتی ہے۔ یہ انسانیت کی اتنی بڑی خدمت ہے کہ کوئی اور پیشہ اس کی ہم سری کا دعوی نہیں کر سکتا، لیکن طبی سہولتیں صرف دس فیصد کسانوں کو میسر آتی ہیں اور وہ بھی صرف ابتدائی قسم کی۔

یہ ستر فیصد لوگ جو ووٹنگ کے ذریعے سے طالع آزما پڑھے لکھے لوگوں کی قسمت کا فیصلہ کرنے کی اہلیت لکھتے ہیں،اگر ان پڑھ رہیں تو وہ غیر مستحق لوگوں کو قانون ساز اداروں میں بھیج سکتے ہیں اور یوں ملک کی سیاسی صورت کو مسخ کرسکتے ہیں۔ کیا آپ ان لوگوں کی اہمیت سے انکار کر سکتے ہیں؟

یہ بات خود ملک کے لیے نیک فال ہوگی کہ ملک کے اکثریتی طبقے کو ہر لحاظ سے مکمل انسان بنانے کی پوری پوری کوشش کی جائے اور اس میں کوئی تساہل یا تامل نہ برتا جائے۔ کوئی زرعی ملک اپنے باعزت اور با شعور کسانوں کے بغیر مکمل او ر اچھا ملک نہیں کہلایا جا سکتا۔

بھوک اور افلاس کی کہانی کتنی ہی پرانی کیوں نہ ہو یا اس کی شکل کتنی ہی بدل گئی ہو، ہم سب کو اس میں مستقل طور پر دلچسپی لینی چاہیے تاکہ ہمارے غریب کسان کو اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا اس قدر شدید احساس نا ہو کہ وہ اپنے آپ کو دوسرے معزز شہریوں کے ہم پلہ نا سمجھے۔ زندگی کی آسائشوں پر ان کا بھی حق۔ انہیں یہ حق دلانے میں مدد کرنے کو ایک فریضہ سمجھنا چاہیے۔

قومی قیادت کا بھی فرض ہے کہ ایسا کلیدی کردار ادا کرنے والوں کو معاشرے میں صحیح مقام دے جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔ ہمارے با شعور طبقے کو چاہیے کہ اس عمل میں اپنی انا کو آڑے نہ آنے دے، بلکہ اس پسماندہ مخلوق کی کھلے دل اور کھلے ذہن سے مدد کریں۔ ہمیں باور کرنا چاہیے کہ صرف ایک مطمئن، مسرور اور محترم کسان ہی بھوک، قحط اور بیماری کے خلاف انسان کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔

خوراک پیدا کرنے والے انسانیت کے اس محسن کو کبھی نفرت اور حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھیے۔ سچ پوچھیے تو کسانوں کو ہماری تقریروں کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں وقار اور عزت نفس چاہیے جس کا اظہار ان کے چہرے اور انکے گاؤں میں نظر آئے۔

شاید تاریخ کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ کسان کی بے مثال محنت کا صلہ اکثر و بیشتر  بے رحم منافقت سے دیا گیا ہے۔ اس کی خدمتوں کو خراج تحسین پیش کرنے میں کبھی زبانی جمع خرچ میں کمی نہیں کی گئی۔ اس کی مفلسی اور بیچارگی کا دلوں کو دہلا دینے والا نقشہ کھینچا جاتا رہا ہے۔ اسے انسانی تہذیب میں ابنائے جنس کے ہاتھوں استحصال کا سب سے بڑا، مستقل اور  ہولناک نشان ضرور تسلیم کیا گیا ہے، لیکن ان معاشروں میں بھی کہ جہاں اس کے نام پر عمرانی انقلاب کو خون کے سمندر میں نہلایا گیا، خود اس کا مقدر جان توڑ محنت کے عوض لب آب جو ترسنے کی منزل سے آگے نہیں بڑھا ہے۔

پاکستان جس نظریہ حیات سے وابستہ اس میں انسان کی قدر و منزلت خانوں میں بٹی ہوئی نہیں ہے اور اس میں ان عناصر کا کوئی دخل نہیں ہے جو کسی فرد کی مساعی سے ماورا اور اس کی دسترس سے باہر ہوں۔ انسان کا انسان سے استحصال جنم ہی اس لیے لیتا ہے کہ کہیں مستقل مفادات کے تحفظ کا سامان کر دیا جاتا ہے اور کہیں دائمی محرومیوں کی مہر لگا دی جاتی ہے۔ اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ عادلانہ توازن حیات کو بروئے کار لایا جائے اور کسان بھی ملکی ترقی کے ثمرات سے بہرہ مند ہو۔

آئیں! آج اس پاک سر زمین پر کسان سے محبت کا پودا لگائیں تاکہ کل یہ  ایسے شجر سایہ دار کی حیثیت اختیار کر لے جس کے تلے بیٹھ کر ہم اب سکون، راحت اور آرام پا سکیں اور وطن پاکستان کو معاشی اور معاشرتی طور پور مضبوط ریاست بنانیں کے خواب کو شرمندہ تعبیر کر دیں۔(آمین)

           ناصربشیر
منیجر ہیومن ریسورسیز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *